Tourism
World
العلا میں قدیم آبادیوں اور تاریخی ورثے کی تحقیق کے لیے آثارِ قدیمہ کے نئے سیزن کا آغاز
العلا، سعودی عرب، 21 اکتوبر (اے بی سی): العلا کے شاہی کمیشن نے العلا اور خیبر میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے لیے 2026–2027 کے سیزن کا آغاز کر دیا ہے۔ تحقیق میں ابتدائی انسانی موجودگی، قدیم سلطنتوں، نخلستانی معاشروں اور حج و تجارت کے تاریخی راستوں پر توجہ دی جائے گی۔
ایک پریس ریلیز کے مطابق، یہ پروگرام گزشتہ برسوں کی کھدائی، دستاویز بندی اور تحفظ کے کام کو آگے بڑھاتے ہوئے شمال مغربی عرب کے آثارِ قدیمہ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا۔
تحقیق کے اہم موضوعات میں ماحولیاتی تاریخ، آبی انتظام، کتبے، روزمرہ استعمال کی اشیا اور طرزِ زندگی شامل ہیں۔ مختلف مقامات اور تاریخی ادوار سے حاصل ہونے والے شواہد کو یکجا کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ قدیم آبادیاں کیسے وجود میں آئیں، ترقی کرتی رہیں اور اپنے ماحول کے ساتھ کس طرح تعلق قائم کیا۔
حِجر میں محققین قدیم آبادی کے مرکزی حصے کا مطالعہ کریں گے۔ اس میں نباتاتی اور حیوانی باقیات کے ساتھ کھدائی سے ملنے والی اشیا کی تحقیق بھی شامل ہوگی، تاکہ مختلف تاریخی ادوار میں وہاں کی زندگی کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
دادان میں آثارِ قدیمہ کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ گزشتہ پانچ سالہ تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ اس دوران تدفین کے مقامات اور رہائشی علاقوں کا مطالعہ کرکے العلا کے اس اہم قدیم مرکز کی تاریخی ترقی کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیبر میں مختلف ادوار کے دوران انسانوں اور نخلستان کے باہمی تعلق پر تحقیق ہوگی۔ اس میں نئے حجری دور، اسلامی ادوار میں خیبر کی تاریخ، رسوبی تہوں، قدیم ماحول اور ان قدرتی وسائل کا مطالعہ شامل ہے جنہوں نے انسانی آبادکاری اور ثقافتی تبدیلیوں پر اثر ڈالا۔
جنوبی العلا میں حج اور تجارت کے تاریخی راستوں، قلعوں، ریلوے اسٹیشنوں اور متعلقہ آثار کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس تحقیق سے ان سفری راستوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو مختلف ادوار میں خطے کو گردونواح کے علاقوں سے ملاتے تھے۔
تحریری ورثہ بھی تحقیق کا ایک اہم شعبہ ہے۔ شاہی کمیشن کے مطابق، العلا میں اب تک 25 ہزار سے زیادہ کتبے درج کیے جا چکے ہیں، جو شمال مغربی عرب کی تاریخ، زبانوں اور ثقافتی روابط کا اہم ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین جانوروں کی باقیات، مٹی کے برتنوں، زیرِ زمین آبی گزرگاہوں اور نخلستانوں میں پانی کے انتظام کا بھی مطالعہ کریں گے، تاکہ قدیم معاشروں کی روزمرہ زندگی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
اس سیزن میں سعودی محققین اور جامعات کے طلبہ کو میدانی تحقیق، تجربہ گاہوں میں تجزیے، تخصصی مطالعات اور رقمی دستاویز بندی کے ذریعے تربیت اور عملی تجربہ بھی فراہم کیا جائے گا۔ شریک اداروں کے سعودی اور بین الاقوامی ماہرین طلبہ کی رہنمائی کریں گے۔
مقامی آبادی کی شمولیت کے لیے عملی سرگرمیاں، عجائب گھروں اور تجربہ گاہوں کے دورے اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کی سیر بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ان سرگرمیوں میں اساتذہ، طلبہ، مقامی داستان گو اور تاریخی مقامات کے محافظ شریک ہوں گے۔
شاہی کمیشن نے کہا کہ یہ پروگرام ثقافتی ورثے کے تحفظ، سائنسی تحقیق کے فروغ اور العلا و خیبر کو آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ثقافتی تبادلے کے مراکز کے طور پر مضبوط بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے ان اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے جن کے تحت قومی ورثے کا تحفظ، ثقافتی شناخت کا فروغ اور مملکت کے تاریخی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا شامل ہے۔
Business
پاکستان–ساڈک سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر گفتگو
اسلام آباد، 30 اکتوبر 2026: پاکستان اور جنوبی افریقہ ترقیاتی برادری (ساڈک) کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اجلاس میں کاروباری تعلقات مضبوط بنانے کے نئے مواقع پر بات کی گئی۔ اس میں ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے، نئے خریداروں اور سپلائرز کو آپس میں ملانے اور مختلف شعبوں میں کاروباری شراکت داری بڑھانے پر زور دیا گیا۔
یہ اقدام پاکستان ساڈک چیمبر ٹریڈ فیڈریشن (پی ایس سی ٹی ایف)، پاکستان چیپٹر کی جانب سے منعقد کی گئی پہلی افریقہ سفارتی و اقتصادی کانفرنس 2026 کے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس سے وابستہ قیادت میں فیڈریشن کے سرپرست اعلیٰ دیوان محمد یوسف فاروقی اور پاکستان چیپٹر کے چیئرمین محمد رفیق میمن شامل ہیں۔

اجلاس کی پریزنٹیشن میں وزارت تجارت کی سالانہ رپورٹ سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان اور افریقہ کے درمیان اشیاء کی تجارت 4 ارب 85 کروڑ امریکی ڈالر رہی۔ اس میں پاکستان کی برآمدات 2 ارب 24 کروڑ ڈالر اور درآمدات 2 ارب 61 کروڑ ڈالر رہیں۔ پریزنٹیشن کے مطابق مالی سال 2023-24 میں مجموعی تجارت 5 ارب 45 کروڑ ڈالر رہی تھی۔
گفتگو میں خوراک اور زراعت، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، سیمنٹ اور معدنیات، مشینری، بجلی کے آلات، ادویات، طبی اور جراحی کے آلات، چمڑے کی مصنوعات، جوتوں اور کھیلوں کے سامان میں کاروبار بڑھانے کے مواقع کی نشاندہی کی گئی۔ ابتدائی جائزے میں جنوبی افریقہ، مڈغاسکر، تنزانیہ اور موزمبیق کی منڈیوں کو نمایاں کیا گیا، تاہم ہر ملک کے تجارتی اعداد و شمار کی مزید تصدیق ضروری قرار دی گئی۔

پریزنٹیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تجارت دونوں طرف سے بڑھنی چاہیے۔ پاکستان افریقی منڈیوں سے کوئلہ، مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، فاسفورک ایسڈ، قدرتی فاسفیٹ اور صاف شدہ تانبے کی کیتھوڈز درآمد کرتا ہے۔ ان شعبوں میں افریقی برآمد کنندگان کے لیے مواقع موجود ہیں، جبکہ پاکستانی تاجر خوراک، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، معدنیات اور دیگر اہم مصنوعات کی برآمدات بڑھا سکتے ہیں۔
ان مواقع کو عملی شکل دینے کے لیے 90 دن کا ایک منصوبہ تجویز کیا گیا۔ اس میں تجارتی اعداد و شمار کی تصدیق، متعلقہ خریداروں اور سپلائرز کی فہرستیں تیار کرنا، درآمدی ڈیوٹی اور منڈی میں داخلے کی شرائط کا جائزہ لینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ منتخب مصنوعات اور ملکوں کے لیے ابتدائی کاروباری ملاقاتیں کرانے کی بھی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ درست تجارتی معلومات اور فائدہ مند کاروباری شراکت داری پاکستان اور افریقہ کے درمیان اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان اقدامات سے سامان کی فراہمی کا نظام مضبوط بنانے اور ساڈک کے رکن ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
